طرابلس،22اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) لیبیا میں (فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی) قومی فوج کے لڑاکا طیاروں نے منگل کی صبح دارالحکومت طرابلس کے معیتیقیہ ہوائی اڈے کے عسکری حصے پر حملہ کرتے ہوئے ہتھیاروں اور ترکی کے ڈرون طیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا۔ یہ گودام وفاقی حکومت کی فورسز کے شانہ بشانہ لڑنے والی مسلح ملیشیاؤں کے زیر استعمال تھے۔
لیبیا کی فوج کے سرکاری ترجمان احمد المسماری نے ایک بیان میں واضح کیا کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں زور دار دھماکے ہوئے اور اس کے بعد معیتیقیہ کے ہوائی اڈے پر واقع میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ تباہ ہو گئے۔ یہ ذخائر مسلح گروپوں اور جماعتوں کے کام میں آ رہے تھے۔
المسماری کے مطابق قومی مسلح افواج کے انٹیلی جنس ذرائع نے اپنی کوششوں سے مذکورہ بنکروں کے ٹھکانوں کا پتہ چلایا تھا۔ یہ بنکر ترکی کے ڈرون حملوں کے لیے مطلوب عسکری ساز و سامان اور گولہ بارود کو ذخیرہ کرنے کی غرض سے استعمال ہو رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق معیتیقہ کے ہوائی اڈے کے اطراف زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور زیر گردش تصاویر میں فضائی بم باری کے بعد ہوائی اڈے کے اندر سے اٹھنے والے دھوئیں کے کالے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی دوران پیر اور منگل کی درمیانی شب لیبیا کی فوج کی ،،، وفاق کے زیر انتظام فورسز میں شامل ملیشیاؤں کے ساتھ شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ عین زارہ، الخلہ اور توغار کے علاوہ دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں شاہراہ خلاطات کے اطراف ہونے والی ان جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں اور توپوں کا استعمال کیا گیا۔
اس سے قبل متعدد فضائی حملوں کا نشانہ بننے کے سبب معیتیقہ کے ہوائی اڈے کو بند کر کے جہازوں کی آمد و رفت کو مصراتہ شہر کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ لیبیا کی قومی فوج فائز السراج کی وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ معیتیقہ کے ہوائی اڈے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے ... اور یہاں سے ترکی کے ڈرون طیارے اڑان بھر رہے ہیں۔
ایک ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور دونوں متنازع فریقوں کے بیچ جھڑپوں کا سلسلہ ابھی تک نہیں رک سکا۔ لیبیا کی فوج نے طرابلس کے کئی علاقوں کے علاوہ مصراتہ اور غریان کے شہروں میں وفاق کی فورسز کے ٹھکانوں اور عسکری کیمپوں پر فضائی حملوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس دوران اس نے العزیزیہ کے علاقے کی طرح کے بعض تزویراتی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ادھر وفاق کی حکومتی فورسز دارالحکومت طرابلس کے وسطی علاقے کی سمت لیبیا کی فوج کی پیش قدمی کی کوششیں روکنے اور اپنے ٹھکانوں کا کنٹرول برقرار رکھنے میں مصروف ہیں۔